زرق برق

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کروفر، شان و شوکت، طمطراق۔ "اپنے آپ کو زرق برق شہر میں ڈھونڈتی تھی"      ( ١٩٨٦ء، فکشن، فن اور فلسفہ (ترجمہ)، ٩٨ ) ٢ - آب و تاب، چمک دمک۔  زہے مراتب، زہے بلندی، زہے ترقی، زہے تجلی جو زدہ ہے عشق کی گلی کا وہ حسن میں زرق برق کیا ہے      ( ١٩٣٣ء، اعجاز نوح، ٢٧٥ ) ٣ - چمکیلا، بھڑکیلا، درخشاں، شوخ۔ "کچھ وقفہ ہوتا تھا تو زرق برق کپڑوں میں ملبوس ہندوستانی ناچنے اور گانے والیاں . دل بہلاتی تھیں"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٥٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'زرق' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'برق' لگانے سے مرکب 'زرق برق' بنا۔ اردو میں بطور اسم اور گا ہے اسم صفت بھی مستعمل ہے ١٧٨٤ء کو "دیوان درد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کروفر، شان و شوکت، طمطراق۔ "اپنے آپ کو زرق برق شہر میں ڈھونڈتی تھی"      ( ١٩٨٦ء، فکشن، فن اور فلسفہ (ترجمہ)، ٩٨ ) ٣ - چمکیلا، بھڑکیلا، درخشاں، شوخ۔ "کچھ وقفہ ہوتا تھا تو زرق برق کپڑوں میں ملبوس ہندوستانی ناچنے اور گانے والیاں . دل بہلاتی تھیں"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٥٦ )